Showing posts with label #geotvnews. Show all posts
Showing posts with label #geotvnews. Show all posts

Thursday, 16 February 2017

لعل شہباز قلندر کامزار خون سے لال ، درگاہ پر قیامت صغریٰ کا منظر،خود کش حملے میں 40 سے زائد افراد شہید ،100 سے زائد زخمی

سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے احاطے میں دھماکہ ہو اہے جس کے باعث40 سے زائد  افراد شہید ہو گئے ہیں جبکہ 100 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں ،ابتدائی طور پر دھماکے کو خود کش قرار دیا جارہاہے،دھماکہ اس وقت ہوا جب دھمال جاری تھی،جس کے باعث شہادتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کو امدادی کارروائیوں کا حکم جاری کر دیاہے۔
تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہناہے کہ دھماکہ درگارہ کے احاطے کے اندر ہواہے جس کے باعث30 افراد شہید ہو گئے ہیں جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں تاہم دیگر شہروں سے بھی ریسکیو ٹیموں کو طلب کر لیا گیاکیونکہ موقع پر موجود ایمبولینسز اور ریسکیو ٹیموں کی تعداد کم پڑ گئی ۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو تالکہ ہسپتال میں منتقل کر رہے ہیں ۔آج جمعرات کا روز ہے جس کے باعث درگارہ پر معمول سے ہٹ کر زیادہ رش زیادہ ہو تاہے اور ملک کے دیگر علاقوں سے حاضرین درگاہ پر ا?تے ہیں اور نظر نیاز کرتے ہیں۔ذرائع کا کہناہے کہ دھماکے کے باعث درگاہ پر بھگدرڑ مچ گئی جس کے باعث بھی کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کا کہناہے کہ بڑا ہسپتال 2گھنٹے کی مسافت پر نواب شاہ میں ہے،ابھی تک ریسکیو ٹیمیں نہیں پہنچی ہے،سیہون شریف کا اپنا ہسپتال بھی نہیں ہے،عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کا انتظام بالکل نہیں تھا، زخمی مزار کے احاطے میں تڑپ رہے ہیں کوئی اٹھانے والا بھی نہیں، زخمیوں میں بچے اور بوڑھے اور خواتین شامل ہیں،ابھی تک ایمبو لینسز بھی نہیں پہنچی ہیں۔

شاہ نورانی کے دربار پر دھماکہ ہواتھا جس کے بعد درگاہوں پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تھی لیکن ایک بار پھر افسوسناک خبر آ گئی ہے۔واضح رہے کہ پانچ روز میں یہ 7واں دھماکہ ہے ،دو روز قبل لاہور مال روڈ پر دھماکے میں 13افراد شہید ہو گئے تھے ۔
سجادہ نشین مہدی شاہ کا کہنا ہے کہ درگاہ پر سکیورٹی کے لیے صرف 2پولیس اہلکار تعینات تھے،لاشیں اور زخمی بکھرے پڑے ہیں،اٹھانے میں مشکلات درپیش ہیں۔سجادہ نشین مہدی شاہ کا کہنا تھا کہ درگاہ پر سکیورٹی کے لیے صرف 2پولیس اہلکار تعینات تھے،کافی مشکلات ہیں ،جمعرات کا روز ہونے کے باعث بہت رش تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانے والوں کودشمن سمجھا جائے گا،بھارتی آرمی چیف

بھارت کی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ سیکیورٹی آپریشنز میں رکاوٹ بننے والوں،حریت پسندوں کی مدد کرنے والوں اور وادی میں پاکستان کے پرچم لہرانے والوں کو بھارت دشمن سمجھا جائے گا۔نئی دلی میں صحافیوں سے گفتگو میں بھارتی فوجی سربراہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری فوجی کارروائیوں میں ناکامی کی بڑی وجہ مقامی آبادی کا عدم تعاون ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ مقامی لوگ کشمیری حریت پسندوں کو چھپنے میں مدد دے رہے ہیں۔جنرل بپن راوت نے کہا کہ بھارت کے خلاف مقامی نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں۔یہ نوجوان سوشل میڈیا پر بھارت مخالف مہم سے متاثر ہوکر کارروائیاں کررہے ہیں۔ ایسے عناصر کو دیہی علاقوں تک محدود کردیا گیا ہے لیکن مقامی آبادی ان کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔بھارتی فوجی سربراہ نے صحافیوں کو بتایا کہ سیکیورٹی آپریشنز میں رکاوٹ بننے والوں، حریت پسندوں کی مدد کرنے والوں اور وادی میں پاکستان کے پرچم لہرانے والوں کو بھارت دشمن سمجھا جائے گا۔ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

پاکستان کے لیے بڑی خوشخبر ی ،پاک فضائیہ میں 16 جے ایف 17تھنڈر طیارے شامل

اکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے 16 جے ایف 17تھنڈر طیارے پاک فضائیہ میں شامل ہو گئے جس سے پاکستان کا دفاع مزید مضبوط ہو گیاہے۔

کامرہ ائیر بیس میں طیاروں کی شمولیت کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور ائیر چیف مارشل سہیل امان سمیت کئی سول اور عسکری حکام نے شرکت کی ۔اس موقع پر 16سے زائد جے ایف 17تھنڈر طیارے پاک فضائیہ میں شامل کیے گئے ۔پاک فضائیہ کے پاس بلاک ون اور بلاک ٹو طیاروں کی مجموعی تعداد 70ے زائد ہے ۔واضح رہے کہ پاکستان نے چین کے اشتراک سے جے ایف 17تھنڈر طیارے تیار کیے جو کہ دونو ں ممالک کے درمیان لازوال دوستی کی علامت ہے ۔اس موقع پروزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا  کہ پاک فضائیہ جرات اور بہادری کی علامت ہے ،جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی شمولیت پاک فضائیہ کیلئے تاریخی اہمیت کی حامل ہے

پاناما کیس کی سماعت21 فروری تک ملتوی ، نیب اور ایف بی آر کے سربراہ ذاتی طورپر سپریم کورٹ میں طلب

 سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے حوالے سے چیئرمین نیب اور چیئرمین ایف بی آر کو ذاتی طور پرطلب کرتے ہوئے سماعت 211فروری (منگل) تک ملتوی کر دی ۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگلی سماعت پر چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر حدیبیہ پیپر مل اور منی لانڈرنگ کس کا مکمل جائزہ لیکر عدالت آئیں ۔”چیئرمین نیب اور ایف بی آر آئندہ سماعت پر عدالت میں موجود ہوں “۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملے پر نیب سے سوالات کریں گے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے آغاز میں حسن اور حسین نواز کے وکیل نے منروا کیساتھ سروسز کا ریکارڈ عدالت میں جمع کر اتے ہوئے موقف اپنایا کہ تمام دستاویزات گزشہ رات لندن سے منگوائی ہیںاور منروا کمپنی کو ادائیگیوں کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کر دیں ،5رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ حسن اور حسین نواز نے کب اور کتنے جوابات جمع کرائے ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ ہمارا وقت ضائع کیا جا رہا ہے ایک چونی کا کام نہیں ہوا۔
 جسٹس عظمت سعید شیخ نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے نیلسن اور نیسکول کا ڈائریکٹر کون تھا ؟جو دستاویزات آپ دیکھا رہے ہیں وہ آف شور کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کے نام ہیں ، دستاویزات سے ثابت کریں کہ حسین نواز کمپنیاں چلا رہے تھے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ جولائی 2006ءمیں بیریئر سرٹیفکیٹ کی منسوخی کیلئے حسین نواز گئے یا مریم نواز ؟ حسین نواز نے سرٹیفکیٹ منسوخ کرائے یا مریم نے اس سے فرق نہیں پڑتا ۔ہم یہاں شواہد ریکارڈ نہیں کر رہے ، مقدمے کی نوعیت کیاہے اس کا فیصلہ آخر میں کریں گے، آپ کہتے ہیں ہمیں سارا سرمایہ قطری نے دیا ، کیس میں دو باتیں ہو سکتی ہیں یا ہم قطری والا موقف تسلیم کریں یا نہ کریں۔ جسٹس اعجاز افضل نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ یہ دستاویز آخر آئی کہاں سے ؟حسین نواز کے پاس اتنی مہنگی جائیداد لینے کیلئے سرمایہ نہیں تھا ، ان کے پاس لندن میں مہنگی جائیدادوں کیلئے سرمایہ کاری کہاں سے آئی جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جائیداد قطری سامایہ کاری کے بدلے حسین نواز کو ملی، لگتا ہے موزیک والی دستاویزات فراڈ کر کے تیار کی گئیں ، دستاویز کون کہاں سے لایا کچھ علم نہیں تاہم مریم کے بینی فشل مالک ہونے کی جعلی دستاویز عدالت میں جمع کروائی گئی ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم تقاریر کو نظر انداز کر تے ہیں تو قصور وار ہوتے ہیں ،ججز آتے جاتے رہتے ہیں ، بات اصولوں کی ہے جو ہمیشہ رہتے ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کمیشن بنا سکتے ہیں یا تحقیقات کیلئے متعلقہ اداروں کو معاملہ بھیج سکتے ہیں ، لیکن کہا جاتا ہے کہ ادارے کام نہیں کرتے تو پھر اب ہم کیا کریں ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ راجا صاحب کیا دستاویزات نہ دینا آپ کی حکمت عملی ہے؟ کیا سپریم کورٹ خود سے کمیشن تشکیل دے کر انکوائری نہیں کر سکتی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسی کوئی حکمت عملی نہیں ہے ۔

حسن اور حسین نواز کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ فروری 2006ءسے جولائی 2006ءتک مریم نواز بطور ٹرسٹی شیئر ہولڈر رہیں اور جولائی میں منروا کمپنی کے نام رجسٹرڈ شیئرز جاری ہوئے تاہم منرواکمپنی نے نیلسن اور نیسکول کے اپنے ڈائریکٹرز دیے اور 2014ءمیں شیئرز منروا سے ٹرسٹی سروسز کو منتقل ہو گئے ،بیریئر سرٹیفکیٹس کی منسوخی سے مریم نواز کی بطور شیئرز ہولڈرز حیثیت ختم ہو گئی تاہم مریم نے بیریئر سرٹیفکیٹ بطور ٹرسٹی اپنے پاس رکھے جس پر جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ شیئرز ٹرانسفر ہونے سے ٹرسٹ ڈیڈ ختم ہو گئی ؟
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر مریم نواز زیر کفالت ثابت بھی ہوں تب بھی فلیٹس کی ملکیت ثابت نہیں ہوتیں ، عدالت نے ریمارکس دیے کہ حسین نواز کے پاس لندن میں مہنگی جائیدادوں کیلئے سرمایہ کاری کوبھی دیکھنا ہے ، مریم اگر حسین نواز کے نمائندے کے طور پر کام کرتی تھیں تو اس دستاویز کو بھی دیکھنا ہے ۔ایرنیا کمپنی کی جانب سے معاہدہ کیا اور فیصل ٹوانہ کو بطور نمائندہ مقرر کیا تھا جو حسین نواز کی جا نب سے منروا کمپنی سے ڈیل کرتے تھے ۔